لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے اس قول کی کیا حقیقت ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماے کرام و مفتیان عظام کہ اکثر لوگ اس مسئلہ کوبہت بیان کرتے ہیں کہ چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے ۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ سکتے ہیں کہ جہاں چالیس لوگ اکٹھا ہوں ان میں کوئی ایک جنتی ہوگا ۔ یہ بات کہاں تک درست ہے جو صحیح ہو مع حوالہ جواب سے سرفراز فرمائیں ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں لوگوں کا یہ بیان کرنا کہ چالیس لوگوں میں ایک اللہ کا ولی ہوتا ہے درست ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ ایک حدیث کی تشریح کرتے ہوے رقمطراز ہیں کہ اولیا اللہ کی دوقسم ہے تشریعی ولی۔ تکوینی ولی ۔تشریعی ولی یعنی اللہ سے قرب رکھنے والے اولیاء حضور کی امت میں بے شمار ہیں۔ تکوینی ولی وہ ہوتے ہیں جنھیں عالم میں تصرف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ان کی جماعت مخصوص ہے جیسے قطب، غوث ابدال وغیرہ اور سب قیامت کے ڈر اور رنج سے ۔یا دنیا کے خوف و غم سے محفوظ ہیں (ماخوذ از مراۃ المناجیح ج ٨ص ٥٨٤) ایک دوسری جگہ مرقاۃ المصابیح ک حوالے سے فرماتے ہیں کہ جہاں چالیس لوگ جمع ہوں ان میں کا کوئی ولی ضرور ہوتا ہے جس کی دعا قبول ہوتی ہے خیال رہے کہ اس سے بھی مراد تشریعی ولی ہے اور مسلمان سے مراد متقی مسلمان ہیں ورنہ سنیماؤں وغیرہ میں ہزاروں فساق ہوتے ہیں ۔ (مرقاۃ المناجیح ج2ص 473 ) واللہ اعلم بالصواب کتبہ. شاہد رضا امجدی جامعی پکڑیا جوت گنڈاہی گونڈا

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات