لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

شوہر بیوی سے کتنے دن تک الگ رہ سکتا ہے ؟ / کیا چار مہینہ سے زیادہ الگ رہنا گناہ ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شوہر بیوی سے کتنے دن تک الگ رہ سکتا ہے ؟

سوال : ایک شادی شدہ شوہر اپنی بیوی کو گھر چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ ممبئی میں دنیاوی زندگی گزارنے کی غرض سے ، روپیہ پیسہ کمانے کے لئے رک جاتا ہے، تو شوہر کو شرعی احکام کے مطابق زیادہ سے زیادہ کتنے دن دور رہنے کی چھوٹ ہے ۔ اگر شوہر ایک یا دو سال کے بعد گھر آتا ہے تو اس دوران اگر بیوی گناہ کی مرتکب ہوتی ہے تو کیا شوہر کو گناہ نہیں پڑے گا؟ اور اگر گناہ پڑتا ہےتو وہ گناہ کبیرہ ہوتا ہے، یا گناہ صغیرہ اور اس کی شرعی سزا کیا ہوگی؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ حاشیہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: عورت کو چھوڑ کر سفر پر جانا اگر کسی ضرورت سے ہو تو اس سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس قدر میں ضرورت پوری ہو، ہاں ضرورت پوری ہونے کے بعد تعجیل مامور ہے ۔ اور اگر بےضرورت ہو تو چار ماہ سے زائد ہرگز سفر پر نہ ٹھرے ۔ حضرت امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی کا حکم فرمایا ۔ ص: 568، ج :5 روپیہ پیسہ کمانا کوئی ایسی ضرورت نہیں جو سال دو سال میں پوری ہو ۔ عام مزدوروں کو ایک دو روز میں اور ملازمین کو ماہ بماہ تنخواہ ملتی رہتی ہے ۔ ممبئی والے ہر چار ماہ پر ایک دو روز کے لیے گھر آسانی کے ساتھ آ سکتے ہیں تو یہ لوگ سال دو سال تک اپنی بیوی سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے، بیوی گناہ میں ملوث ہوئی تو یہ بھی اس کے گناہ میں شریک قرار پائیں گے ۔ مردوں کو حکم ہے: اسكنوهن من حيث سكنتم: بیویوں کووہیں رکھو جہاں تم رہتے ہو، نیز ارشاد باری تعالی ہے : يآ ايها الذين امنوا قوآ أنفسكم واهليكم نارا ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات