بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2317 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا دکان کا نام برکت کے لے "پنجتن پاک اہلیبیت "رکھ سکتے ہیں
کیا فرماتے ہیں علماے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ ایک اسلامی بھائی ایک دکان کھولنا چاہتے ہیں جس کا نام وہ تبرک کی نیت سے "پنجتن پاک اہلیبیت "رکھنا چاہتے ہیں جبکہ اسی نام سے کارڈ ۔تھیلا اور بینر بھی بنےگا جسے مسلم وغیر مسلم سب کو دینا ہوگا تو دریافت طلب امر یہ ہےکہ مزکورہ نام دکان کا رکھنا اور تھیلا وغیرہ پر چھپوانا کیسا ہے . المستفتی. اویس رضا ۔کرنیل گنج ضلع گونڈا بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب ۔ صورت مسئولہ میں مزکورہ نام دکان کا رکھ سکتے ہیں اور اسی نام کو تھیلا ۔کارڈ وغیرہ پربھی لکھوا سکتے ہیں لیکن تھیلا ۔کارڈ وغیرہ میں عربی اور اردو رسم الخط میں نہ ہو بلکہ ہندی ۔انگریزی وغیرہ رسم الخط میں ہو تاکہ عربی اور اردو حروف کی بے حرمتی نہ ہو ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے "لان لتلك الحروف حرمة كذا فى السراجية ” (ج ۵ ص ٣٢٣ ۔الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ) اور یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ متبرک ناموں میں اللہ و رسول کے ذاتی اور صفاتی نام نہ ہوں کہ ان اسماء کا احترام ضروری ہے یہی وجہ کہ علماے کرام نے کارڈ وغیرہ پر تسمیہ کی جگہ ٧٨۶ لکھنا اختیار کیا ۔ لہذا جہاں تک ممکن ہو ایسے ناموں کو رکھنے سے اجتناب کریں . واللہ اعلم بالصواب کتبہ. شاہد رضا امجدی پکڑیا جوت گنڈاہی گونڈا
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ