لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

تقدیر کیا ہے ؟ کیا تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہی بندے کو کرنا پڑتا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

تقدیر کیا ہے ؟ کیا تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہی بندے کو کرنا پڑتا ہے ؟

سوال : (١) تقدیر کیا ہے ۔ (٢) تقدیر کو اللہ تعالی نے جو بری یا بھلی پیدا فرمائی تو اس میں کیا کیا لکھا رہتا ہے ۔ (٣) کیا چوری کرنا، زنا کرنا، قتل کرنا، کسی کا گھر جلانا، کسی سے محبت کرنا یہ سب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے؟ (٤) کیا تقدیر بدل سکتی ہے ؟ یعنی جو چیز قسمت میں نہیں لکھی ہے وہ کوشش کرنے پر مل سکتی ہے؟ (٥)جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے پیدا ہوتے ہی کیوں اللہ اچھی اور بری تقدیر بنا دیتا ہے ۔ جب کہ وہ اچھی اور بری باتیں پہچاننے کی عقل نہیں رکھتا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) اللہ تعالی نے اپنے علم ازلی کے موافق ہر بھلائی برائی کو مقدر فرما دیا ہے اسے تقدیر کہتے ہیں ۔ وھو تعالی اعلم ۔ (٢) انسان کو جو کچھ نفع نقصان پہنچنے والا اور وہ جو کچھ اچھائی برائی کرنے والا تھا سب کچھ اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے ۔ یہ نہیں کہ جیسا لکھ دیا گیا وہ ہم کو کرنا پڑتا ہے ۔ بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا لکھا گیا ۔ وھو وتعالی اعلم (٣) چوری، زنا وغیرہ انسان اپنے اختیار سے کرتا ہے اور اس فعل کے کرنے کی قدرت منجانب اللہ ہوتی ہے ۔ اسی لئے اس فعل پر انسان سے مواخذہ ہوگا ۔ خلاصہ یہ کہ انسان نہ تو مجبور محض ہے اور نہ مختار کل ۔ (٤) تقدیر کی تین قسمیں ہیں ۔ مبرم حقیقی، معلق محض اور معلق شبیہ بہ مبرم ۔ ان میں مبرم حقیقی کا بدلنا نا ممکن ہے ۔ اور معلق محض اکثر اولیاء کرام کی دعاؤں سے ٹل جاتی ہے ۔ اور معلق شبیہ بہ مبرم تک رسائی صرف خاص اکابر کی ہوتی ہے ۔ ایک چیز کا کسی انسان کے لیے نہ ملنا اگر مبرم حقیقی میں سے ہے تو کوشش کرنے پر نہیں مل سکتی ہے ۔ اور اگر قضائے مبرم حقیقی نہ تو ذکراذکار یا بزرگوں کی دعاؤں سے مل سکتی ہے اور آنے والی بلا ٹل سکتی ہے ، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ” ان الدعاء یرد القضاء ” کہ بے شک دعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم (٥) انسان پیدا ہونے کے بعد جو کچھ نیکی، بدی کرتا ہے اللہ تعالی اس کے پیدا ہونے سے بہت پہلے ازل ہی میں اپنے علم سے وہ سب کچھ لکھ چکا ہے ۔ تقدیر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آ سکتے ۔ ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سبب ہلاکت ہے ۔ حضرت ابو بکر صدیق و حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہما اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے تو اوروں کی کیا حقیقت ہے؟ ۔  تقدیر حق ہے ۔ اس کے انکار کرنے والے کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کا مجوس بتایا ہے. واللہ تعالی ورسولہ اعلم ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول، کتاب العقائد صفحہ ٧

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات