بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2296 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی بزرگ کے نام میں انصاری لکھنا کیسا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے فحول و مفتیان ذوی العقول مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کسی سنی بزرگ عالم دین کو اس وقت میں انصاری لکھنا یا کہنا کیسا ہے جب کہ معاشرے وعرف میں معیوب سمجھا جاتا ہے اگر زید ایسے میں کسی بزرگ کو یا عالم کو انصاری لکھے یا کہے تو اس پر کیا حکم شرع ہے مطلع فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــــ ہندوپاک میں ” انصار” ذات برادری کی ایک قسم ہے جو عرفا مسلم بنکروں کے ساتھ خاص ہے خواہ وہ فی الحال بنائی کا کام کرتے ہو، یا پہلے کبھی ان کے آبا و اجداد میں یہ پیشہ رہا ہو ، کسی غرض صحیح کے لیے ان کی ذات برادری کی تعیین درکار ہو تو علما غیر علما سب کے نام کے ساتھ” انصاری” لکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ عرفا انصاری ہونا، کہنا معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے، بلکہ ” جولاہا” کہنا ، لکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ہاں اگر کسی کی نیت اس لفظ سے عالم کی تحقیر ہو اس وجہ سے وہ گنہگار ہوگا ۔ مگر کسی مسلمان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا مگر یہ کی کوئی قرینہ ظاہر ہو ۔ یہاں ایک امر قابل لحاظ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر لوگ انصاری برادری کے ہونے کے باوجود اپنے ناموں کے ساتھ انصاری نہیں لکھتے ۔ تو ان کے نام کے ساتھ اگر کوئی دوسرا شخص یہ لفظ بڑھاتا ہے تو ایک تو یہ بے جوڑ لگتا ۔ دوسرے ممکن ہے کہ کسی کو اس سے تکدر ہو اس لیے عوام و خواص میں سے کسی کے بھی نام کے ساتھ اپنی مرضی سے یہ لفظ نہیں بڑھانا چاہئیے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی نظام الدین رضوی ۔جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ