لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
18 ستمبر 2025

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کے لکھنے کا درست طریقہ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ” ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ کے لکھنے کا درست طریقہ "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُونَ” ہے ۔

(استفتاء)اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام مسٸلہ ذیل میں کہ آج کل واٹس ایپ اوردیگرسوشل میڈیا پر مومن کی موت کی خبر سن کر ”إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“ لکھتے ہیں اور اسی رسم الخط کےساتھ تقریباً تمام اسٹیکرس بھی بنے ہوۓ ہیں، لیکن قرآن پاک میں ”رٰجعون“ کی راپر کھڑا زبر ہے الف نہیں، تو کیاالف کے رسم الخط کے ساتھ لکھنا درست ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ جانے انجانے لکھتے ہیں ان کے لیے حکم شرع کیا ہے؟ اور عوام میں جو معروف ہوگیا ہے اس کی اصلاح کے لیے ہم کیا کریں؟ بینوا توجروا ۔ المستفتی:ایوب رضا کلکتوی وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ میں ‘رَاجِعونَ’ یعنی را کے بعد حرف الف لکھنا جائز نہیں ۔ بلکہ اس کا درست رسم الخط یہ ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَيْهِ رَٰجِعُون ۔ کیونکہ قرآن شریف کارسم الخط رسم عثمانی ہے،جسے بدل کر لکھنا ناجائز وگناہ ہے ۔ لہذا اگر قرآن پاک مکمل یا مختصر لکھنا مقصود ہوتو قرآن پاک کے رسم الخط کے مطابق لکھا جائےگا،واٹس اپ پہ لکھنا ہو یا کہیں اور ۔ جو لوگ رسم عثمانی کے خلاف لکھتے ہیں ان کی اصلاح ہو کہ وہ اس گناہ سے بچیں،نیز انہیں خود بھی مسئلہ معلوم کرنا چاہیے اور اسٹیکر صحیح رسم الخط کے مطابق بنایاجائے ۔ فتاوی شارح بخاری میں ہے:”قرآن مجید اسی رسم الخط میں لکھنا فرض ہے جس میں لکھا ہوا ہے، رسم الخط بدلنا حرام ہے ۔ ‘الصابرین’ قرآن میں ہر جگہ (ٱلصَّٰبِرِينَ) بے الف کے ہے، اس کو اسی طرح لکھنا فرض الف کے ساتھ الصابرین لکھنا حرام ۔ "(ج:١،ص:٦٢٨،دائرة البرکات، گھوسی، ضلع مئو) قرات کورس کے معرفة الرسوم میں ہے:”رسم خط قرآنی کی تعریف یہ ہے کہ کلام پاک کو موافق اس رسم کے لکھنا جس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بنابر اجماع صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم ثابت اور متقدمین سے منقول ہے، اسی وجہ سے اس رسم خط کی اتباع ائمہ اربعہ کے نزدیک واجب ہے ۔ "(پہلی فصل،ص:١٤٣،فاروقیہ بکڈپو،جامع مسجد دہلی) اسی میں ہے ":الف جمع مذكر سالم کثیر الوقوع ہرجگہ محذوف ہوگا جیسے ٱلْقَٰنِتِينَ، ٱلصَّٰدِقِينَ، ٱلصَّٰبِرِينَ وغیرہ…” (ایضاً، آٹھویں فصل،ص:١٥٣) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:عدیل احمد قادری علیمی مصباحی، بلرام پور یوپی،انڈیا

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-2291 تصدیق شدہ
ٹیگز:
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

دیگر شرعی فتاویٰ