بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2276 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل : عبدالکلام ۔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی وعلیکم السلام باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب حیض ونفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا جائز ہے،ان دنوں میں صرف ناف سے گھٹنوں تک نفع اٹھانا ممنوع ہے ۔ ان کے علاوہ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا ممنوع نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے (ومنها) حرمة الجماع.هكذا في النهاية والكفاية- وله ان يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند ابي حنيفة وابي يوسف.هكذا في السراج الوهاج” (ج ۱ ص ۳۹/ المكتبة الشاملة الحديثة) اور بہار شریعت میں ہے "ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں-یوں ہی بوس وکنار بھی جائز ہے” (ج ۱ ح ۲ ص ۳۸۲۔مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔ ۲۲/جمادی الاولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷/دسمبر ۲۰۲۱ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ