لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ سوال عرض یہ ہے کہ حیض و نفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ۔ سائل : عبدالکلام ۔ اٹوا بازار سدھارتھ نگر یوپی وعلیکم السلام باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب حیض ونفاس کے دنوں میں بیوی سے بوس وکنار کرنا جائز ہے،ان دنوں میں صرف ناف سے گھٹنوں تک نفع اٹھانا ممنوع ہے ۔ ان کے علاوہ سے کسی طرح کا نفع اٹھانا ممنوع نہیں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے (ومنها) حرمة الجماع.هكذا في النهاية والكفاية- وله ان يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند ابي حنيفة وابي يوسف.هكذا في السراج الوهاج” (ج ۱ ص ۳۹/ المكتبة الشاملة الحديثة) اور بہار شریعت میں ہے "ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں-یوں ہی بوس وکنار بھی جائز ہے” (ج ۱ ح ۲ ص ۳۸۲۔مکتبة المدينه دعوت اسلامى) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ،نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر۔ ۲۲/جمادی الاولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷/دسمبر ۲۰۲۱ء الجواب صحيح محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات