دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2269
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ماں یا باپ کے سالانہ فاتحہ میں بچے کا عقیقہ کرنا کیسا ہے ؟ مفتی محمد اشفاق عطاری
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,950
سوال (Question):
ماں یا باپ کے سالانہ فاتحہ میں بچے کا عقیقہ کرنا کیسا ہے ؟ مفتی محمد اشفاق عطاری
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ماں یا باپ کے سالانہ فاتحہ میں بچے کا عقیقہ کرنا کیسا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ کسی کے ماں، باپ کا سالانہ فاتحہ ہو تو اس میں بچے کا عقیقہ کر سکتے ہیں یا نہیں ۔ مدلل جواب تحریر فرمائیں ۔ سائل : حیات علی وشنو نگر چمبور ممبئی وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب والدین کے سالانہ کے موقع پر عقیقہ کرنے میں شرعی کوئی قباحت نہیں ۔ البتہ بہتر ہے کہ ایسے موقعے پر نہ کریں بلکہ کسی اور موقع پر کرلے کیونکہ اس وقت کرنے میں بدگمانی میں پڑ سکتا ہے کہ دیکھو ان کے والدین وفات پا چکے ہیں اور یہ اسی دن میں اپنے بچو کی خوشیاں منا رہے ہیں ۔ بہار شریعت ج3 ح15 ص355 پر ہے : عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی۔ بعض نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اکیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اوس دن کو یاد رکھیں اوس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے وہ ساتواں ہوگا مثلاًجمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتویں دن ہے اور سنیچر کو پیدا ہوا تو ساتویں دن جمعہ ہوگا پہلی صورت میں جس جمعرات کو اور دوسری صورت میں جس جمعہ کو عقیقہ کرے گا اوس میں ساتویں کا حساب ضرور آئے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب کتبہ : فقیر محمد اشفاق عطاری
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat