بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2258 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قبر پر صلاة وسلام پڑھنا کیساہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کی کوئی شخص انتقال ہونے سے پہلے اس نے اپنے لڑکے سے کہا میری قبر پر آکر نعت سنانا اور سلام پڑھنا تو کیا اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر پر نعت اور سلام پڑھ سکتے ہیں کی نہیں جواب عنایت فرمائیں سائل سید عالم رضا رضوی ۔ وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مذکورہ میں جواب یہ ہےکہ قبر پر نعتِ رسولﷺ اور صلاة و سلام پڑھ سکتے ہیں بلکہ جائز و مستحسن ہے . جیساکہ حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں قبرستان میں جہاں کہ مردے دفن کئے جاتے ہیں وہاں بھی صلوٰۃ و سلام پڑھنا جائز و مستحسن ہے کہ پڑھنے والوں کو ثواب ملے گا اور مردوں کو فائدہ پہنچے گا .اھ ((فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم ص ۶۵۳, مکتبہ شبیر برادرز اردو بازار لاہور)) واللّٰہ تعالیٰ اعلم، بالصواب ۔ کتبہ : فقیر محمــــــــد نورجمال رضوی دیناج پوری
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ