بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2245 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
گورمینٹ کی رقم مسجد و امام صاحب کے تنخواہ میں خرچ کرنا کیسا ؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں۔۔۔ مسئلہ اگر مسجد میں سرکاری گورمینٹ کی طرف سے روپے ملے تو وہ روپے امام کودینا کیساہے؟ جواب عنایت فرمائیں۔۔ محمد حیدر علی اتردیناج پور (بنگال) وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ سرکاری گورمینٹ کی طرف سے اگر مسجد میں پیسہ آتا ہوں تو وہ پیسہ مسجد میں خرچ کرنا جائز ہے لیکن اگر یہ رقم صرف مسجد کے نام سے ہی ملتا ہے تو اس رقم سے امام کو تنخواہ دینا جائز نہیں ۔ اس رقم کو مسجد میں ہی خرچ کرسکتے ہیں” البتہ اگر سرکاری گورمینٹ کے پیسے امام صاحب کے لیے بھی آتا ہوں تو جائز ہے ورنہ نہیـــــــں ۔ فتاویٰ فقیہ ملت ج 2 ص 160 پر ہے کہ” گورمینٹ کا پیسہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتاتو اسے مسجد وغیرہ بنانے میں خرچ کرنا جائز ہے بشرطیکہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو: ایساہی فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 460 پرہے). اور آگے فتاوٰی فقیہ ملت، میـں ہے کہ اگر خاص تعمیر کے لئے چندہ ہوا ہے تو اس چندہ کی رقم سے امام و مئوذن کو تنخواہ دینا جائز نہیں ” (فتاویٰ فقیہ ملت، ج 2 ص 166) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب ✍🏻محمــــــــد نورجمال رضــوی منجانب سنی مسـائل شـرعیـہ گـــروپ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ