لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سوال : بعض لوگ نماز کے اندر قیام کی حالت میں خصوصا تراویح میں اپنے جسم کو بار بار کھجلاتے ہیں تو اس سے نماز میں کچھ خرابی پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ ایک قیام میں تین بار کھجلانے سے نماز جاتی رہے گی یعنی اس طرح کی کھجا کر ہاتھ ہٹایا، پھر کھجایا پھر ہٹایا اسی طرح تین بار کیا. اور اگر ایک مرتبہ ہاتھ رکھ کر کئی بار حرکت دی تو یہ ایک ہی مرتبہ کھجلانا ہوا اس صورت میں نماز فاسد نہ ہو گی جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 97 میں ہے ۔ اذا حک ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته هذا اذا رفع يده في كل مرۃ اما اذا لم يرفع في كل مرۃ فلا تفسد كذا في الخلاصه. هذا ما عندي وهو تعالى اعلم ۔ كتبــــــــــــه : جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد ١ ص 350

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات