صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2231 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,409

سوال (Question):

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نماز میں بار بار کھجلانے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سوال : بعض لوگ نماز کے اندر قیام کی حالت میں خصوصا تراویح میں اپنے جسم کو بار بار کھجلاتے ہیں تو اس سے نماز میں کچھ خرابی پیدا ہوتی ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ ایک قیام میں تین بار کھجلانے سے نماز جاتی رہے گی یعنی اس طرح کی کھجا کر ہاتھ ہٹایا، پھر کھجایا پھر ہٹایا اسی طرح تین بار کیا. اور اگر ایک مرتبہ ہاتھ رکھ کر کئی بار حرکت دی تو یہ ایک ہی مرتبہ کھجلانا ہوا اس صورت میں نماز فاسد نہ ہو گی جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 97 میں ہے ۔ اذا حک ثلاثا في ركن واحد تفسد صلاته هذا اذا رفع يده في كل مرۃ اما اذا لم يرفع في كل مرۃ فلا تفسد كذا في الخلاصه. هذا ما عندي وهو تعالى اعلم ۔ كتبــــــــــــه : جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد ١ ص 350

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat