صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2228 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 4,893

سوال (Question):

کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر عہد کرنا قسم ہے؟

زیدنے ہندہ سے کہا تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور یہ بات زید نے ہندہ سے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم دلائی کہ تم کو بکر سے کلام نہیں کرنا ہے اور ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم بھی کھائی کہ بکر سے ہرگز کلام نہیں کروں گی ۔ اس کے باوجود ہندہ نے بکر سے کلام کرنا شروع کر دیا۔ کیا اس صورت میں ہندہ پر کفارہ واجب ہوگا یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ ” ہندہ نے قرآن شریف پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی” اس جملے میں قسم سے سائل کی مراد کیا ہے ۔ اگر وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھنے کو قسم سمجھتا ہے اور اسی کو قسم کہتا ہے تو غلط ہے شرعا وہ قسم نہیں لہٰذا نہ قسم ٹوٹی اور نہ اس کا کفارہ واجب ہوا ” اس زمانے میں تعلیم یا حلف کی صورت بہت زیادہ مشہور ہے کہ قرآن مجید ہاتھ میں دے کر کچھ الفاظ کہلواتے ہیں ، مثلا اسے قرآن پاک کی مار پڑے ، ایمان پر خاتمہ نصیب نہ ہو ، شفاعت نصیب نہ ہو ، یہ سب باتیں خلاف شرع ہیں ، مصحف شریف ہاتھ میں اٹھانا حلف شرعی نہیں ” ( بہار شریعت حصہ ١٣، ص/٩١، ۲۰ حلف کا بیان) اور اگر قسم سے سائل کی مراد کچھ اور ہے تو الفاظ قسم صاحب صاف لکھ کر حکم دریافت کرے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat