صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2219 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

فجر کی اذان کے بعد فورا نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 5,741

سوال (Question):

فجر کی اذان کے بعد فورا نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فجر کی اذان کے بعد فورا نماز پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں ؟

حضرت اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت فجر کی اذان کے بعد اگر فورا 5 یا 10 منٹ بعد فرض پڑھ لیے کسی عذر کی وجہ سے تو کیا نماز ہوجائے گی یا دوبارہ پڑھنی پڑھے گی جیسے امام بدعقیدہ ہونے کا اندیشہ ہو اور جماعت کے ختم ہونے کے بعد مسجد بند ہونے کا اندیشہ ہو یا پھر اگر بدعقیدہ امام کی جماعت کے بعد اپنی نماز پڑھنے کے لئے بدعقیدہ لوگوں کی پریشانیوں کا خوف ہو وغیرہ وغیرہ تو کیا اس صورتحال میں اگر بعد اذان اپنی نماز کوئی صیح سنی آدمی پڑھنا چاہے تو کیا نماز ہوجائے گی قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں ۔ المستفتی: حاجی ممتاز حسین تاس حال مقیم سعودی عرب ۔ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب: صورتِ مسئولہ میں اگرامام کی بدعقیدگی تابکفر و ارتدادکاقوی اندیشہ ہوتوایسی صورت میں اس کی اقتدا میں نماز پڑھنا سرا سر باطل ہے،اوراگرمحض اندیشہ ہوتحقیقِ معاملہ ممکن نہ ہوتواحتیاطاًالگ نمازپڑھ لینابہترہے ۔ امام اہلسنت علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں “مگر یہ کہ درحقیقت امام اول سے بدعت تا بکفر وارتداد مرتقی ہوگئی ہو مثلا سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی عیاذا باللہ توہین کرتا ہو حضور کے ختم نبوت میں کلام رکھتا ہو حضور والا کے بعد کسی کو حصول نبوت میں حرج نہ جانتا ہو حضور اقدس کی تعظیم جو بعد تعظیم الہی کے تمام معظمین کی تعظیم سے اعلی واقدم ہے مثل اپنے بڑے بھائی کی تعظیم کے جانتا ہو وعلی ھذا القیاس دیگر عقائد زائغہ مکفرہ رکھتا ہو اس تقدیر پر تو البتہ یہ فعل زید کا نہایت محمود ہوگا اور وہ اس پر اجر جزیل پائے گا کہ صورت مذکورہ میں وہ جماعت عند اللہ جماعت ہی نہ تھی کہ ایسے شخص کے پیچھے نماز راسا باطل ہے”(فتاوی رضویہ ج ۳ ص ۳۴۴ تا ۳۴۵) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفر لہ۔ پلانگڑ ،تھنہ منڈی ،راجوری ،جموں وکشمیر ۲۶/ذو الحجہ ۱۴۴۱ھ الجواب صحيح والله اعلم محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ مرکزی دار الافتا اہلسنت صوبہ جموں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat