صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2213 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 4,999

سوال (Question):

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اولیاء اللہ کی سواری مرد اور عورت کسی پر نہیں آتی

ایک عورت بتاتی ہے کہ میرے اندر اولیاء اللہ کی سواری آتی ہے یا حاضری آتی ہے اور کئی مرد اس عورت کے ہاتھ بھی چومتے ہیں اور اپنی تکلیف بھی بتاتے ہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ عورت غلط کہتی ہے ، اولیاء اللہ کی سواری مرد ،عورت کسی پر نہیں آتی ہے ۔ اور خاص کر ان کی سواری عورتوں پر شرعاً بہت بعید ہے ، کیونکہ وہ حضرات اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تو ان پر سوار کیوں کر ہو سکتے ہیں، یا تو وہ عورت خود جھوٹ بول رہی ہے ، یا اس پر شیطان کی سواری آتی ہے اور وہ جھوٹ بول کر اولیاء اللہ کو بد نام کرتی ہے ۔ مردوں پر اس عورت کے ہاتھ پکڑنا، چومنا حرام ہے ۔ اور اس کے پاس علاج کے لیے جانا ممنوع ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat