دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2206
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,059
سوال (Question):
حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سوال : حالت نماز میں اگر داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کیا حکم ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ داہنے پاؤں کا انگوٹھا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تو کوئی حرج نہیں, لیکن مقتدی کا انگوٹھا داہنے بائیں یا آگے پیچھے اتنا ہٹنا کہ جس سے صف میں کشادگی پیدا ہو یا سینہ صف سے باہر نکلے مکروہ ہے کہ احادیث کریمہ میں صف کے سب سے باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے اور اگر ایک مقتدی جو امام کے برابر میں تھا وہ اتنا آگے بڑھا کہ اس کے قدم کا اکثر حصہ امام کے قدم سے آگے ہوا تو مقتدی کی نماز فاسد ہوئی ورنہ نہیں جیسا کہ ردالمحتار جلد اول صفحہ 381 میں ہے الاصح ما لم یتقدم اکثر قدم المقتدی لا تفسد صلاتہ کما فی المجتبی اور اگر منفرد تنہا نماز پڑھنے والا قبلہ کی طرف ایک صف کی مقدار چلا پھر ایک رکن ادا کرنے کی مقدار ٹھہر گیا پھر اتنا ہی چلا اور اتنی دیر ٹھہر گیا تو چاہے متعدد بار ہو اگر وہ مسجد میں نماز پڑھتا ہو تو جب تک مسجد سے باہر نہ ہو نماز فاسد نہ ہو گی . ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم مطبوعہ لاہور صفحہ 152 میں ہے ۔ اور در مختار نامہ مع شامی جلد اول صفحہ 421 میں ہے مشی مستقبل القبلۃ ھل تفسد ان قدر صف ثم وقف قدر رکن ثم مشی ووقف کذلک وھکذا لا تفسد وان کثر ما لم یختلف المکان اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر صفحہ 96 میں فتاوی قاضی خان سے ہے لو مشی فی صلاتہ مقدار صف واحد لم تفسد صلاتہ. وان مشی الی صف ووقف ثم الی صف لا تفسد لیکن بلا ضرورت ایسا کرنا ضرور مکروہ ہے ۔ اس لئے کہ جس فعل کی زیادتی مفسد ہے اس کا تھوڑا کرنا ضرور مکروہ ہے ۔ اور 2 صف کی مقدار ایک دم چلنا مفسد صلاۃ ہے . رد المحتار جلد اول صفحہ 422 پر ہے ما افسد کثیرہ کرہ قلیلہ بلا ضرورۃ ۔ اور عالمگیری جلد اول صفحہ 96 میں ہے “ان مشی دفعۃ واحدۃ مقدار صفین فسدت صلاتہ ۔ “ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 371
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat