لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

خطبہ جمعہ سننے کے آداب از مفتی محمد رضا مرکزی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

خطبہ جمعہ سننے کے آداب

سوال : خطبہ جمعہ سننے کے آداب کیا ہیں؟ ہاتھ باندھ کر بیٹھنا چاہیے یا قعدہ کی طرح بیٹھنا چاہیے؟ جواب دیں مہربانی ہو گی؟ سائل: محمد معظم رضوی بریلی شریف الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : عن ابن مسعود و ابن عباس رضی الله عنهما مرفوعا الی رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم انه قال اذا خرج الامام فلا صلاة ولا کلام. (او کما قال) ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب امام خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھ جائے تو اس وقت نماز اور بات کرنا دونوں جائز نہیں ہیں۔ عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه قال من قال لصاحبه والامام يخطب انصت فقد لغا. (او کما قال) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خطبہ کے دوران دوسروں کو یہ کہنا کہ خاموش ہو جاؤ تو یہ لغو ہے یعنی منع ہے۔ لہذا وہ لوگ جو خطیب کے قریب (ہونے کی بنا پر اسے سن سکتے ہیں) ہیں ان پر خطبہ سننا واجب ہے اور جو دور ہیں ان پر خاموشی واجب ہے۔ (البدائع والصنائع، ج : 1، ص : 264) خطبہ کے دوران بیٹھنے کا خاص طریقہ منقول نہیں ہے البتہ فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے يستحب ان يقعد فيها کما يقعد فی الصلوة. (فتاوی عالمگيریه، ج : 1، ص : 148) مستحب یہ ہے کہ سامعین خطبہ سننے کے دوران اس طرح بیٹھیں جیسا کہ نماز میں قعدہ پر بیٹھتے ہیں.کسی طرح بھی بیٹھ جائیں، جائز ہے کوئی خلل واقع نہیں ہوتا لیکن مستحب طریقہ یہ ہے کہ قعدہ کی مثل بیٹھیں۔ اسی طرح جو لوگ پہلے خطبہ میں ہاتھ باندھتے ہیں اور دوسرے میں رانوں پر رکھتے ہیں یہ بھی ممنوع نہیں ہے۔ بزرگوں سے منقول ہے کہ یہ زیادہ تر نماز کے مشابہ ہے۔ چونکہ عالمگیری ایک مستند کتاب ہے اور جامع فتوی ہے اس پر عمل ہوجائے تو بہتر ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات