دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2190
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قراءت شروع کیا اور بھول گیا پھر دوسری جگہ سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
8,179
سوال (Question):
قراءت شروع کیا اور بھول گیا پھر دوسری جگہ سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قراءت شروع کیا اور بھول گیا پھر دوسری جگہ سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
سوال : زید نے مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد ” وقال الذین کفروا ” پڑھ کر اس کے بعد کے کلمات بھول گیا. فوراً ہی اس نے ” وقال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجریھا ومرسھا ان ربی لغفور رحیم ” اور چند آیات کریمہ پڑھ کر رکوع میں چلا گیا. بعد نماز بکر نے کہا کہ نماز واجب الاعادہ ہے کیونکہ جس آیت کو پہلے شروع کیا تھا اس کا پڑھنا واجب ہے اور یہاں ترک واجب پایا گیا لہذا نماز پھر سے دہرائی جائے دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر کا یہ قول ازروئے شرع کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ بکر کا قول صحیح نہیں اس لئے کہ زید بھول جانے کے سبب دوسری آیت کی طرف منتقل ہوا اور اس صورت میں نہ ترک واجب نہ کسی قسم کی کراہت جیساکہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 125 میں ہے. واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 242
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat