لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟ / نماز کے مسائل

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟

سوال : نماز میں قرآن مجید آہستہ پڑھنے کی ادنی مقدار کیا ہے؟ بہت سے لوگ صرف ہونٹ ہلاتے ہیں تو اس طرح قرآن پڑھنے سے نماز ہوگی یا نہیں نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ قرآن مجید آہستہ پڑھنے کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ خود سنے. اگر صرف ہونٹ ہلائے یا اس قدر آہستہ پڑھے کہ خود نہ سنے تو نماز نہ ہوگی. بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 69 میں ہے ” آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ضروری ہے کہ خود سنے اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع مثلا شور و غل یا ثقل سماعت بھی نہیں تو نماز نہ ہوئی. ١ھ اور فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 65 میں ہے ان صح الحروف بلسانه ولم يسمع نفسه لا يجوز وبه اخذ عامۃ المشايخ هكذا في المحيط وهو المختار هكذا في سراجیۃ وهو الصحيح هكذا في النقایۃ. وهو سبحانه وتعالى اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 241

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات