لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اسمنگلنگ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اسمنگلنگ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

سوال :اسمنگلنگ کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ یعنی دوسرے ملک سے چاندی سونا یا گھڑی اور کپڑا وغیرہ لا کر اپنے ملک میں بیچنا شرع کے نزدیک کیسا ہے ؟ جب کہ ملکی قانون کے اعتبار سے جرم ہے ۔ بینوا توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ جس صورت میں سونا چاندی اور گھڑی وغیرہ دوسرے ملک سے لا کر اپنے ملک میں فروخت کرنا ملکی قانون کے اعتبار سے جرم ہے اس سے ازروئے شرع ہر مسلمان کو بچنا لازم ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں الصورالمباحۃ مایکون جرما فی القانون ففی اقتحامہ تعریض النفس للاذى والا ذلال وھو لا یجوز فیجب التحرزعن مثلہ – (فتاوی رضویہ جلد ہفتم ص ١١٥) کتبـــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات