دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2183
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم از فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,239
سوال (Question):
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم از فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
بیعانہ کی رقم واپس نہ کرنے کا شرعی حکم
سوال : عام طور پر یہ رائج ہے کہ جب ایک شخص کسی سے کوئی مال خریدتا ہے اور بیچنے والے کو کچھ رقم بیعانہ دیتا ہے پھر کسی وجہ سے وہ مال لینے سے انکار کر دیتا ہے یعنی بیع کو فسخ کر دیتا ہے تو بیچنے والا بیعانہ کی رقم ضبط کرلیتا ہے خریدار کو واپس نہیں کرتا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ بیچنے والے نے خریدار کے انکار کو مان لیا اور بیع کا فسخ منظورکرلیا تو بیعانہ کی رقم واپس کرنا اس پر لازم ہے ۔ اگرنہیں کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا حق العبد میں گرفتارہوگا ۔ اعلی حضرت حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں ہیں کہ بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کر لینا جیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے ظلم صریح ہے ۔ قال اللہ تعالی : لا تاکلوآ اموالکم بینکم بالباطل ۔ پھر چند سطر بعد تحریر فرماتے ہیں کہ بیع کو فسخ ہونا مان کر مبیع نہ دے اور روپے اس جرم میں کہ تو کیوں پھر گیا ضبط کر لے یہ صریح ظلم ہے ۔ بلے ھل ھذا الا ظلم صریح (فتاوی رضویہ جلد ہفتم ص٧) وھوا تعالی اعلم- کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat