بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2171 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قسط پر سامان بیچنے میں قیمت بڑھا کر بیچنا کیسا ہے ؟
سوال : زید ریڈیو ٹیلیویژن ٹائپ اور دیگر الکٹرک کے سامان کی تجارت کرتا ہے اور ہمہ اقسام کے سامان قسط وار دیتا ہے اور اس طرح پیسہ لیتا ہے کہ ایک ریڈیو٣٠٠ تین سو روپیہ کا دیتا ہے جس میں اس کو دس روپیہ ملتے ہیں لیکن جب ہفتہ بھر میں پورا پیسہ بھرنے کے لیے گراہک لے جاتا ہے تو تین سو کے اوپر ٢٥ روپیہ اور بڑھا دیتا ہے اور اس طرح ہفتہ بھر میں سوا تین سو وصول کرتا ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سود ہے جو کہ حرام ہے ازروئے شرع مطلع فرما کر مشکور فرمائیں کہ اس طرح قسط وار تجارت کرنا جائز ہے یا نا جائز ہے اگرناجائز ہے تو کس رو سے ناجائز ہے جواب باصواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں عین کرم ہوگا- الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کے اگر نقد قیمت فورا ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے ۔ نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی طے کر دے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خرید و تو اتنی ہے ۔ یہ جائز نہیں ہے کہ تین سو روپیہ میں فروخت کر دیا اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ کی دیر ہوگی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ زیادہ لے ایسا کرے گا تو سود ہو جائے گا ۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ