لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نقد اور ادھار موبائل کی الگ الگ قیمت رکھنا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نقد اور ادھار موبائل کی الگ الگ قیمت رکھنا

الجوابــــــــــــــــ نقد موبائل کی قیمت مثلا ایک ہزار رکھنا اور ادھار موبائل کی قیمت 1100 رکھنا جائز ہے اور اس طرح موبائل کی خرید و فروخت درست ہے ۔ یہ سود نہیں ، البتہ ایک ہزار روپے میں موبائل فروخت کر دیا اور قیمت ملنے میں ایک ہفتہ دیر ہوگئی تو گراہک سے سو روپے زیادہ لینا یہ سود ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کی موبائل نقد اور ادھار الگ الگ قیمتوں میں بیچنا جائز ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ” ادھار بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا۔” مفتی محمد جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فورا ادا کرے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ سامان کی قیمت لے ۔ یہ شریعت میں جائز ہے، سود نہیں۔ نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے ہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی طے کر دے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خرید تو اتنی ہے۔یہ جائز نہیں کہ تین سو روپے میں فروخت کر دیا ۔ اب اگر قیمت ملنے میں ایک ہفتہ دیر ہوگئی تو اس سے پچیس یا پچاس زیادہ لے، ایسا کرے گا تو سود ہوگا۔ کتبـــــــہ : علامہ طفیل احمد مصباحی ۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات