صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2142 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,532

سوال (Question):

نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

کیا فرماتے علمائے کرام کہ عاشورا، شب برات، شب قدر وغیرہ کی نفل نمازیں جماعت سے پڑھ سکتے ہیں کہ نہیں؟ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ عاشورا، شب برات وغیرہ کی نفل نمازوں کی جماعت اگر کبھی کبھی بلا تداعی ہو تو جائز ہے ۔ اور تداعی وجماعت کثیرہ یعنی چار لوگوں کے ساتھ ہو تو مکروہ تنزیہی خلاف اولی ہے ۔ درمختار میں ہے: ” یکرہ ذلك لو علی سبیل التداعی بان یقتدی اربعۃ بواحد” اھ یکرہ ذلك کے تحت ردالمحتار میں ہے : ” الظاھر ان الجماعۃ فیہ غیر مستحبۃ ثم ان کاں ذلك احیانا کما فعل عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کان مباحا غیر مکروہ وان کان علی سبیل المواظبۃ کان بدعۃ مکروھۃ لانہ خلاف المتوارث” اھ اسی میں ہے : “والنفل بالجماعۃ غیر مستحب لانہ لم تفعلہ الصحابۃ فی غیر رمضان .وھو کالصریح فی انھا کراھۃ تنزیھیۃ فتامل” اھ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 2، ص: 500، کتاب الصلاۃ، باب : الوتر والنوافل، مطلب فی کراھۃ اقتداء فی النفل علی سبیل التداعی) حالات حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عاشورا وغیرہ کی نمازوں میں تداعئی جماعت مباح ہے ۔ کیوں کہ دیکھا جاتا ہے کہ ان موقعوں پر بھی لوگ بدعات وخرافات اور ناجائز امور میں لگے ہوتے ہیں اگر ان کو مذکورہ نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کے لیے بلایاجاتا ہے تو آکر نماز پڑھ لیتے ہیں اور بدعات وخرافات سے بھی بچ جاتے ہیں، ورنہ کہتے ہیں کہ ہم کو نماز پڑھنا ہی نہیں آتاہے اس بناپر مذکورہ نوافل باجماعت پڑھنا جائز ہے ۔ والله تعالٰی اعلم  عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی، انڈیا ٨جمادی الاخری١٤٤٣ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat