لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دارالاسلام اور دارالحرب کسے کہتے ہیں ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دارالاسلام اور دارالحرب کسے کہتے ہیں ؟

سوال(١ )دارالاسلام کسے کہتے ہیں؟ (٢) دارالحرب کسے کہتے ہیں؟ (١)الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ بعون الملک العزیز الوھاب دارالاسلام وہ ہے کہ جہاں بادشاہ اسلام کا حکم جاری ہو ۔ یا اس طرح کے بروقت وہاں سلطنت اسلامی موجود ہو یا پہلے وہاں سلطنت اسلامی رہی ہو اور کافر کے قبضہ کرنے کے بعد شعائراسلام جمعہ اور اذان و اقامت وغیرہا کلا یا بعضا برابر اب تک جاری ہوں جیسے کہ ہندوستان افغانستان اور ایران وغیرہ ۔ جیسا کہ شرح نقایہ میں کافی سے ہے "دارالاسلام ما یجری فیہ حکم المسلمین ” اور فتاوی رضویہ جلد سوم میں فصول عمادی سے ہے "ان دارالسلام لا تصیر دارالحرب اذا بقی احکام الاسلام وان زال غلبۃاہل الاسلام "وھوتعالی اعلم ۔ (٢) دارالحرب وہ ہے کہ جہاں بادشاہ اسلام کا حکم بھی جاری نہ ہوا ہو جیسے روس، فرانس، جرمن اور پرتگال وغیرہا یورپ کے اکثر ممالک۔ یا بادشاہ اسلام کے احکام جاری ہوئے ہوں مگر پھر غلبہ کفار کے بعد شعائراسلام بالکل مٹا دیئے گئے ہوں اور وہاں کوئی مسلمان امان اول پر باقی نہ ہو ۔ اور بھی شرط ہے کہ وہ دارالحرب سے ملحق ہو سلطنت اسلامیہ محصور نہ ہو ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے” فی الزیادات انما تصیر دارالاسلام دارالحرب بشروط ثلاثۃ احدھا اجراء احکام الکفار علی سبیل الشہار وان لایحکم فیھا بحکم الا اسلام والثانی ان تکون متصلۃ بدارالحرب لایتخلل بینھما بلد من بلاد الاسلام والثالث ان لا یبقی فیھا مومن ولا ذمی بامانہ الاول اھ ۔” وھو سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات