بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2130 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بینک میں روپیہ جمع کرنے پر بینک ہمیں سود دیتا ہے تو وہ سود ہم غرباء و مساکین کو دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو بینک کہ مسلمانوں کا ہو یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہو تو اس بینک کا نفع شرعاً سود ہے اس کا لینا حرام اشد حرام ہے اور ایسے بینک سے نفع لے کر غرباء و مساکین کو دینا بھی جائز نہیں ۔ قال اللہ تعالی واحل اللہ البیع وحرم الربوا (پ٣ع٦) اور بینک اگر یہاں کے کافروں کا ہو یا نام نہاد یہاں کے جمہوری حکومت کا ہو تو اس کا نفع شرعاً سود نہیں کہ یہاں کے کافر حربی ہیں۔ جیسا کہ رئیس القراء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں "ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون ( تفسیرات احمدیہ صفحہ ٣٠٠) ۔ اور حدیث شریف "لاربوا بین المسلم والحربی "یعنی مسلمانوں اور حربی کے درمیان سود نہیں۔لہذا ایسے بینک کا نفع اپنی ضروریات میں بھی خرچ کر سکتے ہیں اور غرباء و مساکین کو دے کر ثواب حاصل کریں تو بہتر ۔ اس نفع کو کسی کے سود کہہ دینے سے شریعت کے نزدیک سود نہیں ہو جائے گا۔ ھو تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ