بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2125 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قالین اور کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت اس مسئلہ میں نرم فرش پر سجدہ کرنا کیسا ہے؟ آج کل کشمیر میں اکثر مساجد میں فوم کا فرش بچھا ہوا ہوتا ہے اور اس کے یعنی فوم کے اوپر ٹاٹ یا وال ٹو وال(Wall to Wall) یا کمبل یا قالین یا نمدہ وغیرہ لگایا جاتا ہے جس سے فرش نرم پڑ جاتا ہے اور سجدہ کرنے میں دشواری ہوتی ہے تو ایسی صورت میں اس پر نماز درست ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نرم فرش مثلا قالین ،کمبل وغیرہ پر سجدہ کرنا اس وقت جائز ہے جب اس پر ناک اور پیشانی خوب اچھے طریقے سے جم جائے یعنی اتنا دب جائے کہ اب دبانے سے نہ دبے ورنہ نہیں. اور جب سجدہ نہیں ہوگا تو نماز بھی نہیں ہوگی کیونکہ سجدہ فرائض نماز سے ہے. فتاوی ہندیہ میں ہے : لو سجد علی الحشیش اوالتبن او علی القطن او الطنفسۃ او الثلج ان استقرت جبھتہ وانفہ ویجد حجمہ یجوز وان لم تستقر لا ” ١ھ (صفحہ ٧٠ جلد ١) ایسا ہی بہارشریعت صفحہ ٧١ حصہ سوم میں بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــہ : مفتی غلام نبی النظامی العلیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ