دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2123
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,977
سوال (Question):
فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال : اگر بہت زیادہ محتاج ہو کہ فاقہ کی نوبت ہو اور کہیں سے قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ فقہائے کرام نے سود سے بچنے کی جو صورتیں بیان کی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر بہار شریعت کے گیارہویں حصہ میں ہے اگر اس طرح بھی قرض نہ مل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے ۔ الا شباہ والنظائر صفحہ ٩٢ میں ہے۔ فی القنیۃ والبغیۃ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح ۔ اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں سود دینے والا اگر حقیقتاً صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں ہے ۔ ردمختار میں ہے ۔ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح “ اور اگر بلا مجبوری شرعی سود دیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائیداد میں اضافہ کرنے یا اونچا محل بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وہ بھی سود کھانے والے کے مثل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٢٤٣) وھو تعالی ورسولہ الا علیٰ اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat