بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2123 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فاقہ کی نوبت ہو قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال : اگر بہت زیادہ محتاج ہو کہ فاقہ کی نوبت ہو اور کہیں سے قرض حسن نہ ملے تو اس صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ فقہائے کرام نے سود سے بچنے کی جو صورتیں بیان کی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر بہار شریعت کے گیارہویں حصہ میں ہے اگر اس طرح بھی قرض نہ مل سکے تو صحیح شرعی مجبوری کی صورت میں سودی قرض لینا جائز ہے ۔ الا شباہ والنظائر صفحہ ٩٢ میں ہے۔ فی القنیۃ والبغیۃ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح ۔ اور اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں سود دینے والا اگر حقیقتاً صحیح شرعی مجبوری کے سبب دیتا ہے اس پر الزام نہیں ہے ۔ ردمختار میں ہے ۔ یجوز للمحتاج الا ستقراض بالربح " اور اگر بلا مجبوری شرعی سود دیتا ہے مثلا تجارت بڑھانے یا جائیداد میں اضافہ کرنے یا اونچا محل بنوانے یا اولاد کی شادی میں بہت کچھ لگانے کے واسطے سودی قرض لیتا ہے تو وہ بھی سود کھانے والے کے مثل ہے ۔ (فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٢٤٣) وھو تعالی ورسولہ الا علیٰ اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ