صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2122 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 6,765

سوال (Question):

عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر کرنا کیسا ہے ؟

سوال : بکر نے اپنی بیٹی ہندہ کا عقد بغیر اس کی رضا مندی کے زید کے ساتھ کردیا تھا. دراں حالیکہ ہندہ بالغہ تھی اس واقعے کو بھی تقریبا آٹھ سال گزر گئے اور ہندہ ابھی تک نہ اپنے سسرال گئی اور نہ ہی خلوت ہوئی. ایسی صورت میں عقد مذکور ہوا کہ نہیں؟ اور لڑکی اپنا دوسرا عقد کرنے کی مجاز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عاقلہ بالغہ عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہو سکتا اور اگر کسی نے کر دیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول مصری صفحہ 269 میں ہے ‘‘ لا ہجوز نکاح احد علی بالغۃ صحیحۃ العقل من ان او سلطان بغیر اذنھا بکرا کانت او ثیبا فان فعل ذلک النکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذا فی السراج الوھاج. لہذا صورت مستفسرہ میں اگر باپ کے کیے ہوئے نکاح کو ہندہ نے رد کر دیا تھا تو اس صورت میں طلاق حاصل کیے بغیر دوسرا نکاح کر سکتی ہے اور اگر پہلے رضامند نہ تھی مگر باپ کے کیے ہوئے نکاح کو جائز کر دیا تھا تو اس صورت میں بغیر طلاق دوسرا نکاح نہیں کر سکتی. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 676

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat