دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2113
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,825
سوال (Question):
نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نابالغہ لڑکی مطلقہ ماں کے پاس ہے کیا اس کے نکاح کے لئے باپ کی اجازت ضروری ہے؟
سوال : بکر نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس کی گود میں تین ماہ کی لڑکی بھی تھی. بیوی اپنے میکے میں گزر کر رہی ہے. لڑکی تقریباً سات سال کی ہوگئ تو کیا اس لڑکی کا نکاح کرنے میں بکر سے اجازت ضروری ہے؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ جب تک لڑکی نابالغ ہے اس کا نکاح کرنے کے لیے بکر کی اجازت ضروری ہے . اور بالغ ہونے کے بعد کفؤ کے ساتھ شادی کرنے کے لیے بکر کی اجازت ضروری نہیں. وھو سبحانہ وتعالی اعلم بالصواب کتبــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ٦٧٩
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat