لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

نماز کے دوران موبائل فون کی گھنٹی بجنے کا حکم

نماز کے دوران اگر موبائل کی گھنٹی بج جائے تو کیا نماز ٹوٹ جائے گی؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

موبائل کی گھنٹی بجنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ البتہ نماز میں داخل ہونے سے پہلے موبائل بند کرنا یا سائلنٹ پر رکھنا لازم ہے۔ اگر نماز میں بج جائے تو ایک ہاتھ سے بند کر دیں، عملِ کثیر سے بچیں ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات