دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2098
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,733
سوال (Question):
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
سوال :انڈیا گورنمنٹ نے بینک کو قومیا لیا ہے۔ حفاظت کے لیے بکر نے اپنا روپیہ جمع کردیا ۔پانچ سال کے بعد جب بکر نے جائیداد خریدنے کے واسطے اپنا روپیہ نکالا تو اصل رقم کے ساتھ نفع کا بھی روپیہ ملا ۔ یہ روپیہ بکر کے لئے جائز ہے یا ناجائز ؟زید کا کہنا ہے کہ کہ قومیائے ہوئے بینک سے اصل رقم کے ساتھ جو زائد روپیہ ملا ہے اور جائز نہیں ہے کیونکہ بینک خالص ہندو مہاجن کے نہیں ہیں۔ اس کے مالک ہندو، مسلم,سکھ، عیسائی سبھی ہیں۔ یہ رقم سود ہوجاتی ہے بکر اسے کیا کرے ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ قومیائے ہوئے بینک کے مالک مسلمان بھی ہیں یہ صرف کہنے کے لئے ہے حقیقت میں اس کے مالک صرف یہاں کے کافر ہیں جو حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان شرعاً سود نہیں کما فی الحدیث۔ لہذا ایسے بینک کا نفع مسلمان کیلئے جائز ہے۔ بکر اسے لے کر کسی بھی جائز کام میں خرچ کر سکتا ہے ۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat