بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2096 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں بیچنا کیسا ہے ؟
سوال : ایک کنٹل گیہوں کو دوسرے قسم کے ایک کنٹل گیہوں سے برابر برابر ادھار یا نقد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایک کنٹل گیہوں کو ایک کنٹل گیہوں سے بیچنا جائز نہیں چاہے ادھار بیچے یا نقد ۔ ادھار تو اس لیے ناجائز و حرام ہے کہ دونوں قدر و جنس میں متحد ہیں اور اس صورت میں کمی بیشی اور ادھار دونوں صورتیں حرام ہوتی ہے ۔ جیساکہ فتاویٰ عالمگیری جلد دوم صفحہ ١٠٧ میں ہے۔ ان وجدالقدروالجنس حرم الفضل والنساء ۔ اور نقد اس لئے حرام و ناجائز ہے کہ گیہوں عند عندالشرع وزنی چیز نہیں ہے بلکہ کیلی ہے لہذا اسے پیمانہ ہی سے ناپ کر ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز ہے وزن سے ایک دوسرے کے برابر بیچنا جائز نہیں ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد سوم مصری صفحہ ١٠٧ میں ہے کہ ” لوباع البر بجنسہ متساویا وزنا لم یجز ۔ اور ہدایہ جلد ثالث صفحہ ٦٤ میں ہے” لوباع الحنطۃ بجنسھا متساویا وزنا لا یجوز عندھما (ای الطرفین) وان تعارفوا ذالک لتوھم الفضل علی ما ھوالمعیار فیہ کما اذا باع مجازفۃ اھ۔” وھو تعالی ورسولہ الا اعلم جل مجدہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کتبــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ