بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2095 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ہوم لون یا بزنس لون لینا کیسا ہے ؟
سوال (١) دوکان یا مکان کے لئے بینک سے قرضہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ (٢) ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوستان کے کافروں سے سود لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) بینک اگر مسلمان کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے تو ایسے بینک سے سود دینے کی شرط پر قرض لینا حرام ہے ۔ اور سود دینے والا بھی سود لینے والے کی مثل گنہگار ہے ۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ۔ لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم "آکل الربواوموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء”۔ یعنی سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والوں, سود دینے والوں, سودی دستاویز لکھنے والوں اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں ۔ (مسلم شریف) اور اگر بینک یہاں کے خالص کافروں کا ہے تو اگرچہ ایسے بینک سے زائد رقم دینے کی شرط پر دوکان وغیرہ کے لئے روپیہ لینا شرعاً سود نہیں کہ یہاں کے کفار حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان سود نہیں جیسا کہ حدیث شریف میں ہے"لاربابین المسلم والحربی” مگر ایسے بینک سے بھی بلا ضرورت شدیدہ قرض لینا اور انہیں نفع دینا منع ہے۔ (٢) یہاں کے کافروں کو قرض دے کر زائد رقم لینا جائز ہے کہ وہ حربی ہیں جیسا کہ رئیس الفقہاء حضرت ملا جیون رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔ ان ھم الا حربی وما یعقلھا الا العالمون ( تفسیرات احمدیہ صفحہ ٣٠٠) مگر زائد رقم سود کی نیت سے نہ لے کہ سود مطلقا حرام ہے ۔ قال اللہ تعالی وحرم الربوا۔ اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں : کہ اگر قرض دیا اور زیادہ لینا قرار پایا تو مسلمان سے حرام قطعی اور ہندو سے جائز ہے جب کہ اسے سود سمجھ کر نہ لے ۔ (فتاوی رضویہ جلد ہفتم صفحہ ٩٣) وھو سبحانہ و اعلم بالصواب کتبــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ