بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2082 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دیوبندیوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانے کی امید پر کیا ان کی مسجد کا امام بننا درست ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔ حضرت! بات یہ ہے کہ دیوبندی اپنی مسجد میں ایک سنی امام رکھنا چاہتے ہیں ، اور سنی امام کو امید ہے کہ آہستہ آہستہ ہم انہیں ان کے عقائدے باطلہ مذمومہ سے اپنے عقائد کی طرف کریں گے ، لیکن اس درمیان نکاح نماز جنازہ وغیرہ بھی پڑھانا ہوگا تو اب ایسی صورت میں سنی امام دیوبندیوں کی مسجد میں امامت کرسکتا ہے کہ نہیں؟ حضرت جواب جلد عنایت فرمائیں! سائل: محمد ساجد متعلم جامعہ علیمیہ جمدا شاہی الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ اللہم ھدایة الحق والصواب جس شخص کا یہ منصوبہ ہے کہ دیوبندیوں کا امام بننے کے بعد ان کو اپنا ہم عقیدہ بنالے گا، ایسا شخص کیوں نہیں ان کا امام بننے اور ان کی نماز جنازہ پڑھانے وغیرہ جیسا سنگین جرم وگناہ کرنے سے پہلے کسی اور تدبیر سے دیوبندیوں کو ان کے عقائدِ باطلہ مذمومہ سے پھیر کر اپنا ہم عقیدہ بنا لیتا؟؟؟۔ کیا اگر کسی کافرہ عورت کے مسلمان ہوجانے کی امید ہو تو کیا اس کے قبولِ اسلام سے پہلے اس سے اس امید پر شادی رچاکر مجامعت شروع کردی جائے گی کہ کچھ مہینوں یا سالوں کی حرام کاری کے بعد اس کو اپنا ہم عقیدہ بنانے میں ہم کو کامیابی ہو ہی جائے گی؟؟؟ نہیں، ہرگز نہیں، یہ سب شیطان کا فریب ہے کہ وہ نیکیوں کا سبز باغ دکھا کر ہلاکت کے دلدل میں ڈالتا ہے،اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "شیطان کے طرقِ اغوا سے ایک بدتر طریقہ یہ بھی ہے کہ آدمی کو حسنات کے حیلہ سے ہلاک کرتا ہے” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٩٠) بہر حال جب تک دیوبندی اپنے عقائد باطلہ سے توبہ کرکے موافقِ عقائد اہل اپناعقیدہ نہ کرلیں ان کی امامت اور ان کا نماز جنازہ پڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اگر ان کو مسلمان سمجھ کر امامت کرے گا اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھوئے گا ۔ واللہ الہادی الی الصواب، وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١٦/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٢٠/جنوری ٢٠٢٢ء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ