لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ / مسافر مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟

سوال : مسافر پر جمعہ فرض ہے یا نہیں؟ اور مسافر فجر، مغرب، جمعہ میں مقیم کی امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مسافر پر جمعہ فرض نہیں ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ 4 صفحہ 99 میں ہے اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 144 پر ہے ” لوجوبھا ای الجمعۃ شرائط فی المصلی ھی الحریۃ والذکورۃ والاقامۃ والصحۃ کذا فی الکافی ” ١ھ. اور تنویر الابصار میں ہے ” شرط لافتراضھا اقامۃ بمصر ” ١ھ. (ج٢ س ١٥٣) اور مسافر نماز فجر، مغرب، جمعہ بلکہ ہر نماز میں مقیم کی امامت کرسکتا ہے. حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں جمعہ کی امامت ہر مرد کر سکتا ہے جو اور نمازوں میں امام ہو سکتا ہو اگرچہ اس پر فرض نہ ہو جیسے مریض، مسافر، غلام. (بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ ١٠٠) اور درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 155 پر ہے ” یصح للامامۃ فیھا من صلح لغیرھا فجازت لمسافر وعبد ومریض ” واللہ تعالی اعلم والیہ المرجع والمآب کتبـــــــــــہ : محمد اویس القادری امجدی  الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت جلد ١ صفحہ 225

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات