لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نسبندی کرانے والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟

سوال : زید نے بلا جبر و اکراہ راضی برضا نسبندی کرا لیا اب از روئے شرع اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟ ایک نام نہاد مولوی نے کہا کہ اگر زید نے اس گناہ سے نادم ہو کر علی الاعلان مجلس میں اللہ سے توبہ و استغفار کر لیا تو اب زید کے پیچھے نماز درست اور جائز ہے تو کیا مولوی مذکور کا یہ کہنا صحیح ہے؟ مفصل جواب سے نوازیں. کچھ پیر اور مولوی صاحبان کہتے ہیں کہ اس کا توبہ قبول ہی نہ ہوگا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ چوری، شراب نوشی،زناکاری اور سود خوری بلکہ کفر و شرک جیسے گناہ عظیم جب توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں تو نسبندی کا گناہ بھی توبہ سے معاف ہو جائے گا. قال اللہ مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ٥ وَمَن تَابَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَإِنَّهُۥ يَتُوبُ إِلَى ٱللَّهِ مَتَابًا . پارہ ١٩ رکوع ٤ اور حدیث شریف میں ہے ” التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ” لہذا نسبندی کرانے والا اگر اعلانیہ توبہ و استغفار کرلے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی اور شرعی خرابی نہ ہو . واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجـــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 277

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات