لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ہوائی جہاز اگر فضاء میں اڑ رہا ہو تو اس میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ہوائی جہاز اگر فضاء میں اڑ رہا ہو تو اس میں نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ اگر ہوائی جہاز اڈا پر کھڑا ہو تو اس میں ہر نماز پڑھ سکتا ہے اور اگر اڑ رہا ہو اور مسافر کو غالب گمان ہو کے اڈے پر اترنے تک اتنا وقت نہ بچے گا کہ جس میں نماز پڑھ سکے گا تو ہوائی جہاز اڑنے ہی کی حالت میں نماز پڑھے جیسے کی کشتی اور پانی کے جہاز میں. اسے ٹرین پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا ڈرائیور اسٹیشن کے علاوہ بھی اسے روک سکتا ہے اس لیے چلتی ہوئی ٹرین میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ ضروری ہے اور ہوائی جہاز کا ڈرائیور اسے ہر جگہ اتارتا نہیں تو یہ مانع من وجہ العباد نہیں اس لئے اس میں پڑھی گئی نماز کا اعادہ نہیں ہے. شامی جلد اول صفحہ 562 پر ہے ” قولہ لا یعید ای فی سقوط الشرائط اوالارکان بعذر سماوی بخلاف ما لو کان من قبل العبد ١ھ. اور ہوائی جہاز میں جو مانع پایا جاتا ہے وہ سبب سماوی کے حکم ہے کہ ڈرائیور کو ہر جگہ روکنے کا کا اختیار نہیں. ہاں اگر کوئی ایسا ہوائی جہاز ہو کہ جس کا ڈرائیور اسے کہیں بھی اتار سکتا ہو تو اس پر پڑھی گئی نماز کا اعادہ ضروری ہے. اس مسئلہ کی تفصیل نزھۃ القاری شرح بخاری جلد دوم صفحہ 375 پر ملاحظہ ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی شاہد علی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات