لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

موبائل پر گفتگو کا انداز کیسا ہونا چایئے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

موبائل پر گفتگو کا انداز کیسا ہونا چایئے؟

الجوبـــــــــــــــــــــــ ” دین اسلام کا فکری و عملی دستور اور نظام تمدن و معاشرت سختی کے بجائے نرمی میں اور شدت کے بجائے ملائمت پر قائم ہے۔ نرمی اور متانت و سنجیدگی اسلام کے مزاج میں داخل ہے ۔ حدیث پاک میں آیا ہے ” اللہ تبارک و تعالی ہر چیز میں نرمی کو پسند فرماتا ہے” ان الله يحب الرفق في الامر كله. مسلم شريف كی حدیث ہے: ” من يحرم الرفق يحرم الخير” ترجمه: جو شخص نرمی سے محروم رہتا ہے وہ بھلائی سے محروم رہتا ہے۔ لہذا آپسی میل جول اور باہمی ملاقات میں میں متانت وسنجیدگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ موبائل پر گفتگو بھی ملاقات ہے۔ لہذا موبائل پر بھی نرمی اور شائستگی کے ساتھ گفتگو کی جائے۔ موبائل پر گفتگو پوری متانت و سنجیدگی اور خوشگوار لہجے میں ہونی چاہیے۔ بات چیت کا انداز ایسا ہو کہ دوسرا شخص آپ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ علاوہ ازیں زبان بالکل سادہ، عام فہم اور سلیس ہو۔ گفتگو نا بالکل زور زور سے ہو اور نہ ہی آہستہ آہستہ۔ اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ بات چیت کریں، اگر موبائل پر گفتگو کرنے والے بڑے بزرگ مثلا والدین ، اساتذہ و پیرومرشد اور قریبی رشتہ دار (جو آپ سے عمر میں بڑے ہیں) ہوں تو ان کی عزت و احترام کا خاص خیال رکھیں اور ان کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ہی بات کریں۔ اور موبائل سے بات کرنے والا آپ سے عمر میں چھوٹا ہے تو اس کے ساتھ شفقت و رحمت کا برتاؤ کریں۔ الغرض موبائل کے ذریعہ بات چیت کرنے میں وہ تمام آداب ملحوظ رکھیں جو رو برو بات کرنے میں مخاطب کے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ملحوظ ہوتے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: انزلوا الناس منازلهم. ترجمه: لوگوں کے مقام و منصب کی رعایت کرو۔ اور ترمذی شریف میں ایک حدیث اس طرح آئی ہے: ليس منا من لم يرحم صغيرنا ولم يؤقر كبيرنا. ترجمه: جو بچے پر شفقت و رحمت اور بڑوں کی عزت نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ لہذا موبائل پر گفتگو کے دوران ان چیزوں کی رعایت ضرور ہونی چاہیے۔ ماخوز از موبائل فون کے ضروری مسائل / علامہ طفیل احمد مصباحی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات