بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2055 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
پہلی دوسری صف میں کتنے عمر کے بچوں کو کھڑا کر سکتے ہیں؟
سائل: محمد رضوان نوری مالیگاؤں الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب اگر صر ف ایک سمجھ دار نابالغ بچہ ہے تو وہ بڑوں کی صف میں کھڑا ہوگا ۔ اگر کئی بچے ہیں تو وہ بڑوں کی صفوں کے پیچھے صف بناکر کھڑے ہوں گے بہ شرطیکہ مجمع زیادہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے گم ہونے یا ان کے آپس میں شرارت کرنے کا اندیشہ ہو ۔ اگر اس طرح کا اندیشہ ہو تو انہیں بڑوں کی صفوں میں کھڑا کیا جائے گا۔کنارے کنارے ۔ ویصف الرجال ثم الصبیان، ظاہرہ تعددہم، فلو واحدً دخل الصف (درمختار) وفي تقریرات الرافعي: قال الرحمتي ربما یتعین في زماننا إدخال الصبیان في صفوف الرجال۔ لأن المعہود منہم إذا اجتمع صبیان فأکثر تبطل صلاة بعضہم ببعض ۔ وربما تعدی ضررہم إلی إفساد صلاة الرجال انتہی ۔ اھ سندی (درمختار مع الشامي: ۲/ ۵۱۲، ط) اور یہ بھی ہاد رکھیں ۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بچوں کو ڈانٹ کر ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی صف میں بھیجیں ۔ اس سے بچوں کی تربیت نہیں ہوسکے گی اور وہ مسجد سے دور ہوسکتے ہیں ۔ اگر بچے نماز کے دوران مسجد میں شوروغل کریں تو انہیں نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھا دینا چاہیے، سخت لہجہ سے پیش نہیں آنا چاہیے ۔ ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره ۔ سمجھدارنابالغ بچوں کی صف مَردوں کی صف سے پیچھے بنانے کا حکم ہے تاہم اگر کوئی سمجھدار نابالغ ایک بچہ مَردوں کی صف میں کھڑا ہوجاتا ہے تو اس سے اس صف میں موجود یا اس بچے کے بالکل پیچھے پچھلی صف کے نمازی کی نماز میں کچھ اَثر نہیں پڑتا اور ایسے ایک بچے کو مَردوں کی صف میں کھڑا ہونا بھی جائز ہے ۔ امامِ اَہلِ سنّت اعلیٰ حضرت الشَّاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرَّحمٰن اس ضِمن میں اپنے ایک فتوے میں کلام کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "اور یہ بھی کوئی ضروری اَمرنہیں کہ وہ صف کے بائیں ہی ہاتھ کو کھڑاہو علماء اسے صف میں آنے اور مَردوں کے درمیان کھڑے ہونے کی صاف اجازت دیتے ہیں ۔ درمختار میں ہے:”لَوْ وَاحِداً دَخَلَ فِیْ الصَّفِّ۔“(یعنی اگر بچہ اکیلا ہو توصف میں داخل ہوجائے۔مترجم) مراقی الفلاح میں ہے:”اِنْ لَمْ یَکُنْ جَمْعٌ مِنَ الصِّبْیَانِ یَقُوْمُ الصَّبِیُّ بَیْنَ الرِّجَال“(اگر بچے زیادہ نہ ہوں تو بچہ مَردوں کے درمیان کھڑا ہوجائے۔ مترجم)بعض بے عِلْم جو یہ ظُلم کرتے ہیں کہ لڑکا پہلے سے داخلِ نماز ہے، اب یہ آئے تو اسے نیت بندھا ہوا ہٹا کر کنارے کردیتے اور خود بیچ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یہ محض جہالت ہے، اسی طرح یہ خیال کہ لڑکا برابر کھڑا ہو تو مرد کی نماز نہ ہوگی غلط وخطا ہے جس کی کچھ اصل نہیں ۔ فتح القدیرمیں ہے:”اَمَّا مُحَاذَاۃُ الْاَمْرَدِ فَصَرَّحَ الْکُلُّ بِعَدَمِ اِفْسَادِہٖ اِلَّامَنْ شَذَّ وَلَامُتَمَسِّکَ لَہُ فِی الرِّوَایَۃِ کَمَا صَرَّحُوْا بِہٖ وَلَا فِی الدِّرَایَۃ۔“(بے ریش بچے کے مَحاذِی ہونے پر تمام علماء نے تصریح کی ہے کہ نماز فاسد نہ ہوگی مگرشاذ طور پر کوئی فسادِ نماز کاقائل ہے اور اس کے لئے کوئی دلیل نہ روایت میں ہے جیسا کہ فقہا نے اس کی تصریح کی ہے اور نہ ہی درایت میں ہے۔مترجم) وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ وعِلْمُہُ جَلَّ مَجْدُہُ اَتَمُّ وَاَحْکَم۔ (فتاویٰ رضویہ،ج7،ص51) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ