دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2045
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,722
سوال (Question):
دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ / حمل کو گرانا کیسا ہے ؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ میں تقریبا دو ماہ کا حمل ضائع کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ اس کا ایک لڑکا آٹھ سے نو مہینے کا ہے جواب عنایت فرمائیں حوالہ کے ساتھ ۔ سائل۔۔۔ محمد عمران قادری، فقط والسلام وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ ضرورت کے پیش نظر حمل ضائع کر سکتے ہیں، جیسا کہ سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی طرح کا ایک سوال ہوا کہ کیا کوئی عورت جس کو دومہینے کا حمل ہو، تو وہ صفائی کرا سکتی ہے؟الخ، تو آپ جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ اگر ابھی بچہ نہیں بنا جائز ہے، ورنہ ناجائز ، کہ بے گناہ کا قتل ہے اور چار مہینے میں بچہ بن جاتا ہے (فتاوی رضویہ، جلد،٩ نصف آخر، ص، ١٥١) اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ جان پڑ جانے کے بعد اسقاط حمل حرام ہے اور ایسا کرنے والا گویا قاتل ہے اور جان پڑنے سے پہلے اگر کوئی ضرورت ہو تو حرج نہیں۔ (ایضا صفحہ نمبر ٢٦٠) اگر ضرورت ہو تو چار مہینے سے پہلے حمل گرانا جائز ہے ،بلا ضرورت ایسی حرکت درست نہیں، ( فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ نمبر ٣٣١) کتبــــــہ : مولانا منظور القادری ،خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat