بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2043 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جس عورت کا شوہر غائب ہو اس کے لئے کیا حکم ہے ؟
الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں جس گمشدہ مرد کی موت وحیات کا حال معلوم نہ ہو وہ مفقود الخبر ہے،اور مفقود کی بیوی کیلئے مذہب حنفی میں یہ حکم ہے کہ اپنے شوہر کی عمر نوے سال ہونے تک انتظار کرے ۔ اور امام ابن ہمام رضی اللہ تعالی عنہ کا مختا ر یہ ہے کہ اپنے شوہر کی عمرستر سال ہونے تک انتظار کرے ۔ لقوله عليه السلا اعمارامتى ما بين السنتين الي السبعين مگر وقت ضرورت ملجئہ مفقود کی مفقود کی عورت کو حضرت امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر عمل کی رخصت ہے ان کے مذہب میں چار سال کی مدت مقرر ہے ۔ لہذا ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم "قاضیٔ شرع”کے حضور فسخ نکاح کا دعوی پیش کرے وہ عالم اس کا دعوی سن کر چار سال کی مدت مقرر کرے، بغیر دعوی پیش کئے بطور خود چار سال انتظار کرتی رہی تو یہ عدت حساب میں شمار نہیں ہوگی، بلکہ دعوی کے بعد چار سال کی مدت درکار ہے، اس درمیان میں اسکے شوہر کے موت وحیات کا حال معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے جب یہ مدت گزر جائے تو وہ عورت اسی عالم کے پاس استغاثہ پیش کرے اس وقت وہ عالم اسکے شوہر کے موت کا حکم کرے گا پھر عورت عدت وفات "چار ماہ دس دن” گزار کر جس سنی صحیح العقیدہ سے چاہئے نکاح کرسکتی ہے۔ اس سے قبل ہر گز ہر گز اس کا نکاح جائز نہیں ۔ (فتاوی رضویہ شریف جلد،١٣ ص،٣٤٤,٣٤٥,٣٤٨) (فتاوی بحر العلوم ،جلد ٣،ص،٤٠٦،٤٠٩،٤١٠) (فتاوی فیض الرسول جلد دوم ص ۲٨٦) ( وقال مالک رحمہ اللہ اذامضی لہ أربع سنین یفرق القاضی بینہ وبین امرأتہ وتعقد عدۃالوفاۃ ثم تتزوج من شاء ت۔ہدایہ کتاب المفقود۔) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب کتبـــــہ : حضرت مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارلعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ