دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2030
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,895
سوال (Question):
جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟
سوال :بعد سلام عرض یہ ہے کہ جو انسان داڑھی کاٹتا ہو کیا وہ اذان پڑھ سکتا ہے ؟ سائل:- شفیق بہرائچی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب صورت مسؤلہ میں فاسق کو اذان پڑھنا درست نہیں ہے اگر پڑھے تو اس کی اذان کا اعادہ کیا جائے (یعنی دوبارہ اذان پڑھی جائیگی) مذہب حنفی میں ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے اس سے کم رکھنا ناجائز و حرام ہے. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں: داڑھی حد مقرر شرع سے کم نہ کرانا واجب ۔ اور حضور سرور عالم صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور انبیاء علہیم الصلوٰۃ والسلام کی سنت دائمی اور اہل اسلام کے شعائر سے ہے اور اس کا خلاف ممنوع وحرام اور کفار کا شعارہے۔ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: عشر من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ ۔ یعنی دس چیزیں سنت قدیم انبیاء عظام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی ہیں ان سے مونچھیں کم کرانا اور داڑھی الحدیث،رواہ مسلم ۔ حد شرع تک چھوڑدینا(اس کو مسلم نے روایت کیا) شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ ﷲ تعالٰی شرح میں فرماتے ہیں: حلق کردن لحیہ حرام ست وروش افرنج وہنود وجوالقیان کہ ایشاں راقلندریہ نیز گویند وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب ست وآں کہ آنرا سنت گویند بمعنی طریقہ مسلوک دردین ست یا بجہت آنکہ ثبوت آں بہ سنت ست چنانکہ نماز عیدرا سنت گفتہ اند داڑھی منڈانا حرام ہے،یہ افرنگیوں،ہندؤوں اور جوالقیوں کا طریقہ ہے جو قلندریہ بھی کہلاتے ہیں۔اور داڑھی بمقدار ایک مٹھی چھوڑنا واجب ہے اور داڑھی کے متعلق جو کہا جاتاہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین میں ایک جاری طریقہ ہے یا یہ وجہ ہے کہ اس کا ثبوت سنت کے ساتھ ہے جیسا کہ نماز عید کو سنت کہتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ج،٢٢ ص، ٥٨٢) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ ایک مشت سے کم داڑھی کاٹنا حرام و فسق ہے اور فاسق کی اذان کا اعادہ کیا جائے گا۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں خنثی و فاسق اگرچہ عالم ہی ہو اور نشہ والے اور پاگل اور نا سمجھ بچے اور جنب کی اذان مکروہ ہے، ان سب کی اذان کا اعادہ کیا جائے۔ (درمختار) (بہار شریعت ج 1 ح 3 اذان کا بیان مسئلہ نمبر 15) لیکن اقامت کا اعادہ نہیں کیا جائے گا کہ اس میں تکرار نہیں ہے ۔ کتبــــــــہ : مفتی منظور عالم قادری صاحب زید مجدہ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat