صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2029 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 7,789

سوال (Question):

ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرما تے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک سانس میں دونوں طرف سلام پھیرنا کیساہے؟بحوالہ جواب عنایت فرمائیں. المستفتی:۔ محمد ہارون گائیڈیہ الجواب بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں حکم یہ ہےکہ جس طرح دو تنفس کے ساتھ نماز میں سلام پھیرناصحیح ہے ٹھیک اسی طرح ایک تنفس کے ساتھ بھی صحیح ہے بشرطےکہ مقتدیوں پرایک تنفس سے ایک سلام کا اشتباہ نہ ہو۔وجہ یہ ہے کہ اول سلام میں صرف “السلام”کہنے سے ہی نماز اداکرنے والا نماز سے بصنعہ باہر ہوجاتا ہے۔اس کاخروج “علیکم” کہنے پر موقوف نہیں رہتا۔ اب مصلی اس کےبعد ایک سانس سے دونوں سلام پورا کرے یا دوسانس سے شرعاً کچھ حرج نہیں۔ فتح القدیریرمع ہدایہ میں ہے”والامام ینوی بالتسلیمتین” وبمجردلفظ السلام یخرج ولایتوقف علیٰ “علیکم”۔ (فتح القدیر مع ہدایہ جلد اول صفحہ ۱۲۸ مطبع نول کشور لکھنؤ) مندرجہ بالا عبارت کی روشنی میں سلام دونوں جانب پھیرنے کا حکم ہے خواہ دوسانس سے ہو یا ایک سانس سے ۔البتہ دو سانس سے ہونا افضل ہے کہ اس میں رفع اشتباہ ہے۔ ھٰذا ماعندی والعلم عند ربی ۔ کتبــــہ:مفتی منظو عالم قادری، استاذ دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ،میگھولی کلاں مہراجگنج یو پی انڈیا۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat