صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2021 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,690

سوال (Question):

ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ایک بیوی کی لڑکی کا نکاح دوسری بیوی کے لڑکے سے درست ہے یا نہیں؟

سوال : زید کی بیوی کا انتقال ہونے کے بعد اس نے دوسری شادی یعنی نکاح بیوہ ہندسے کر لیا. پہلی بیوی سے ایک لڑکا تھا اتفاقاً ہندہ کو بھی پہلے شوہر سے ایک لڑکی تھی جو نانا نانی کے یہاں پل بڑھ کر جوان ہوئی اور انہیں کی کفالت میں ہے کیا یہ جائز ہے کہ زید کی پہلی بیوی کے لڑکے سے ہندہ کے پہلے شوہر کی لڑکی سے نکاح کیا جائے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــ زید کی پہلی بیوی کے لڑکے کے ساتھ ہندہ کے پہلے شوہر کے لڑکی سے نکاح جائز ہے یہ دونوں شرعاً اجنبی ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماں باپ الگ الگ ہیں تو ان کے درمیان کوئی رشتہ نسبی یا رضاعی نہیں. فتاوی ہندیہ میں ہے ” لا باس ان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی ۔ جلد 1 صفحہ 277 ۔ واللہ تعالی عالم کتبہ : مفتی محمد شمیم مصباحی الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat