لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اپنے لڑکے کا نکاح بیوی کی اس لڑکی سے جو دوسرے شوہر سے ہے کر سکتے ہیں یا نہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا انتقال ہو گیا اس کے نطفے سے تین لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں. زید کی بیوی ہندہ نے بکر سے شادی کی اور بکر کی بیوی شبینہ سے تین لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں. بکر نے شبینہ کے ہوتے ہوئے ہندہ سے شادی کرلی اور اپنے بڑے لڑکے کا نکاح جو کہ شبینہ کے بطن سے ہے زید مرحوم کی بڑی لڑکی جو ہندہ کے بطن سے ہے کردیا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ کہ بکر بھی اس لڑکی کی ماں سے شادی کر کے اسی گھر میں رہے اور بکر اپنی پہلی بیوی کے لڑکے ہندہ سے جو بکر کی دوسری بیوی ہے اس کی لڑکی سے شادی کر کے اسی گھر میں رکھے. قرآن و حدیث کی روشنی میں مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مسئولہ میں ہندہ کی لڑکی کا نکاح ہندہ کے شوہر ثانی بکرکے اس لڑکے کے ساتھ کرنا جو شبینہ کے بطن سے ہے جائز ہے. فتاویٰ عالمگیری باب المحرمات میں ہے ” لا باس بان یتزوج الرجل امراۃ ویتزوج ابنہ ابنتھا او امھا کذا فی محیط السرخسی (ج ١ صفحہ ٢٢٧) وجہ یہ ہے کہ وہ محرمات میں سے نہیں اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے ” واحل لکم ما وراء ذلکم (پارہ ٥ آیت ٢٤) اور جب ان کا نکاح شرعاً درست ہے تو اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی شمس الدین احمد علیمی الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات