لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیاعورت نماز میں بلند آوازسے قرأت کرسکتی ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ کیا عورت نماز میں بلند آواز سے قرأت کرسکتی ہے مردوں کی طرح نہیں بلکہ جتنی آواز میں تلاوت کرتے ہیں اتنی آواز میں کیونکہ دھیمی آواز میں ایسا لگتا ہے کہ مخرج ادا نہیں ہوا ۔ المستفتیہ : مریم فاطمہ گوپی گنج ضلع بھدوہی U. P. INDIA بسم الله الرحمن الرحيم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته الجوابـــــــــــــــــــــــــ عورت كو نماز میں بلند آواز سےقرأت کرنےكی اجازت نہیں کہ اس کی آواز بھی عورت ہے ۔ ردالمحتار میں ہے "وعلی ھذا لوقیل اذا جھرت بالقراءۃ فی الصلاۃ فسدت کان متجھا ولھذا منعھا علیہ الصلاۃ و السلام من التسبیح بالصوت لإعلام الإمام بسھوہ الی التصفیق” (ردالمحتار علی الدرالمختار کتاب الصلاۃ ، باب شروط الصلاة ج :2 ص:79) يعني عورت کی آواز كے عورت ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے کہ عورت جب نماز میں بلند آواز سے قرأت کریگی تو اس کی نماز فاسد ہوجائےگی اسی وجہ سے اللہ کے رسول صلي الله تعالي عليه وسلم نے عورت کو امام کے سہو پر آگاہ کرنے کےلئے آواز سے بتانے کے بجائے تالی بجاکر بتانے کا حکم دیا ہے. تو جب عورت کو بآواز لقمہ دینے کی اجازت نہیں جو کہ درستگی نماز کے لیے ضروری ہے تو قرأت بالجھر کی اجازت کب ہوگی ہاں اتنی آواز سے قرأت کرنےکی ضرور اجازت ہے کہ صرف اغل بغل والے سن سکیں کہ یہ جہر نہیں بہار شریعت میں ہے "اس طرح پڑھنا کہ فقط دو ايک آدمی جو اس کے قریب ہیں سن سکیں، جہر نہیں بلکہ آہستہ ہے” (بہار شریعت ، حصہ :3 قرآن مجید پڑھنے کابیان ، ص: 544 ناشر مکتبۃ المدینہ) کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات