بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1991 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شرابی کاجنازہ پڑھنا کیسا ہے ؟
السلام عليكم ورحمة الله تعالى وبركاتہ ۔ شرابی کی نماز جنازہ پڑھنا کیسا ہے جبکہ وہ ہمیشہ شراب کے نشہ میں رہتا ہو؟ سائل: قاری عرفان بھجواری ضلع سدھارتھ نگر ، یوپی انڈیا. بسم اللہ الرحمن الرحیم وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاتہ الجوابـــــــــــــــــ مسلمان خواہ پرہیز گار ہو یابدکار اس کے جنازہ کی نماز پڑھنا فرض کفایہ ہے حدیث پاک میں ہے: "الصلوة واجبة علی کل مسلم یموت برا کان او فاجرا وان عمل الکبائر” (سنن ابي داؤد ، حدیث نمبر: 2533 كتاب الجهاد ، باب فی الغزو مع ائمة الجور) يعني ہر مسلمان کی نماز جنازہ واجب ہے چاہے وہ نیک ہو یا برا اگرچہ مرتکب کبیرہ ہو. لہذا صورت مستفسرہ میں اگرچہ شرابی ارتکاب حرام کے سبب سخت فاسق وفاجر اور بدکار ہے مگر اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔ کماورد فی الحدیث السابق ۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے : "جب کوئی مسلمان مرجائے خواہ متقی و پرہیز گار ہو یا شرابی وبدکار اسلامی طریقہ پر اس کی تجہیزو تکفین کرنا اور جنازہ کی نماز پڑھنا ہر اس مسلمان پر فرض کفایہ ہے جس کو موت کی اطلاع ہوجائے.” اھ (ج :1 ص:440 کتاب الجنائز ) کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي خادم میرانی دارالافتاء
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ