بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1986 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
فرض کی تعریف کیا ہے اور فرض کی کتنی قسمیں ہیں ؟
السلام عليكم ورحمة الله تعالى وبركاتہ ۔ فرض کی تعریف کیا ہے اور فرض کی کتنی قسمیں ہیں ؟ سائلہ : اقرا فاطمہ ، کریلی ، الہ آباد ، پوپی انڈیا. وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ فرض : جو دلیل قطعی سے ثابت ہو یعنی ایسی دلیل جس میں کوئی شبہ نہ ہو (بہارشریعت ج:1ص:47 مکتبۃ المدینہ بحولہ فتاوی فقیہ ملت ج1ص 203)فرض کی باعتبار ادا دو قسمیں ہیں
(1)فرض مطلق (2)فرض کفایہ (1)فرض عین : وہ ہے جس کا ادا کرنا تمام مکلفین پر فرض ہو یعنی صرف کچھ لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی جانب سے ادانہ ہو جیسے نماز روزہ حج وغیرہ. (2)فرض کفایہ : وہ ہوتا ہے جو کچھ لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی جانب سےادا ہوجاتا ہے اور کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گناہ گار ہوتے ہیں جیسے نماز جنازہ . (بہار شریعت ج:1ص:47 مکتبۃ المدینہ. بحوالہ وقار الفتاوی ج:2ص: 57) کتبہ : گدائے حضور رئیس ملت محمد عرف صدام حسين احمد قادري ميراني فيضي
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ