لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

سوال :ایک شخص کو غسل کی حاجت ہے اتفاق سے اس کی آنکھ ایسے وقت کھلی جب کہ فجر کی نماز کا وقت بہت تنگ ہو گیا کہ اگر غسل کرے تو نماز قضا ہو جائے گی. تو کیا ایسا شخص غسل کا تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ جب کہ نماز کا وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ جلدی سے غسل کرکے نماز نہیں پڑھ سکتا تو اگر جسم پر کہیں نجاست لگی ہو تو اسے دھو کر غسل کا تیمم کرے اور وضو بنا کر نماز پڑھ لے. پھر غسل کرے اور سورج بلند ہونے کے بعد نماز دوبارہ پڑھے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 584 میں ہے. مگر یہ اس صورت میں ہے جب کہ کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور سارے بدن پر پانی بہانے کے بعد دو رکعت فرض پڑھنے بھر کا بھی وقت نہیں ہے اور اگر اتنا وقت ہے لیکن صابن وغیرہ لگا کر اہتمام سے نہانے بھر کا وقت نہیں ہے تو فرض ہے کہ صابن وغیرہ کے بغیر غسل کے نماز پڑھے. اس صورت میں اگر تیمم کر کے نماز پڑھی تو سخت گناہ گار ہوگا. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧١

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات