لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟ / وضو کے مسائل

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نیند سے وضو کب ٹوٹتا ہے ؟

اکثر دیکھا گیا ہے مسجد کے اندر نماز کے انتظار میں لوگ بیٹھے ہیں اور انہیں نیند کی جھپکی آگئی یا اونگھنے لگے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا وضو ٹوٹ گیا اور وہ ازخود کسی کے ٹوکنے سے وضو کرنے لگتے ہیں یہ غلط ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا ہے۔ (بہار شریعت, ح۲ ، ص ۲۷) ترمذی اور ابو داؤد کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد شریف میں نماز عشاء کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سونے لگتے تھے یہاں تک کہ ان کے سر نیند کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے پھر وہ دوبارہ بغیر وضو کیے نماز پڑھ لیتے تھے۔ (مشکوۃ، باب مایوجب الوضو ، ص٤١)

نیند سے وضو تب ٹوٹتا ہے جب کہ یہ دو شرطیں پائی جائیں:

(١) دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔ (٢) سونے کی حالت غافل ہوکر سونے سے مانع نہ ہو۔۔ (فتاویٰ رضویہ ج۱، ص۷۱) چت یا پٹ یا کروٹ سے لیٹ کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اکڑوں بیٹھا ہو اور ٹیک لگا کر سوگیا تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا، پاؤں پھیلا کر بیٹھے بیٹھے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا خواہ ٹیک لگائے ہوئے ہو ۔ کھڑے کھڑے یا چلتے ہوئے یا بحالت نماز قیام میں یار کوع میں یا دو زانوں سیدھے بیٹھ کر یا سجدے میں جو طریقہ مردوں کے لیے سنت ہے اس پر سو گیا تو وضو نہیں جائے گا ۔ ہاں اگر نماز میں نیند کی وجہ سے گر پڑا اگر فور آنکھ کھل گئی تو ٹھیک ورنہ وضو جاتا رہا۔ بیٹھے ہوئے اونگھنے اور جھپکی لینے سے وضو نہیں جاتا۔ ماخوذ از غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح / علامہ تطہیر احمد رضوی بریلی شریف 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات